کیسے پتا چلے گا کہ کسی شخص کو کورونا وائرس یا عام فلو ہے؟

آج کلنزلے زکام یا فلُو کا موسم ہے، جسے دیکھیں چھینکیں مارتا یا ناک صاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جسے زکام ہوتا ہے وہ خود ہی کہہ دیتا ہے کہ مجھ سے دور رہیں کہیں آپ کو بھی جراثیم نہ لگ جائیں۔

 

یا پھر آپ خود ہی اس متاثرہ شخص کے پاس جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا ہر سال ہوتا ہے، تاہم اس مرتبہ ایک بات نئی ضرور ہے۔

کورونا وائرس یا عام فلو ہے؟

کیسے پتا چلے گا کہ کسی شخص کو عام فلو ہے یا کورونا وائرس؟

ڈاکٹر حفیظ کا کہنا ہے کہ کسی کی چھینک یا نزلے زکام کو بظاہر دیکھ کر یہ پتا لگانا ابھی ناممکن ہے کہ اسے عام فلو ہے یا کورونا وائرس۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یونیورسل پریکاشن (عالمی احتیاط) کے اصول کے مطابق جب مریضوں کے خون کا نمونہ لیتے ہیں تو ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ سب کو ہی کورونا ہے اور اسی طرح کی احتیاط کرتے ہیں جیسی بتائی گئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹیسٹ کے بعد نتیجہ منفی نکلے۔‘

:کورونا اور فلو میں مماثلت

فلو اور کورونا سے ہونے والی بیماریاں دونوں ہی سانس کی بیماریاں ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں بظاہر ایک ہی طرح کی دکھائی دیتی ہیں لیکن دونوں بیماریاں مختلف قسم کے وائرس سے لگتی ہیں۔

دونوں ہی میں بخار چڑھتا ہے، کھانسی آتی ہے، جسم درد کرتا ہے، تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے اور کبھی کبھار متلی یا اسہال (دست) ہوتا ہے۔

یہ دونوں کچھ عرصے کے لیے بھی ہو سکتی ہیں اور ایک لمبے عرصے کے لیے بھی۔ کئی کیسز میں بیمار افراد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر حفیظ کہتے ہیں کہ یہ مماثلت سب سے زیادہ ذہن میں رکھنے والی ہے اور اس سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

‘کورونا کے مریض سے سب سے زیادہ خطرہ اس کے گھر والوں کو ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ وائرس آنکھ، ناک اور منہ سے جسم میں داخل ہو جاتا ہے اس لیے سب سے زیادہ احتیاط مریض کے قریب رہنے والوں کو کرنی چاہیے۔

‘یہ کمرے کے دروازے کے ہینڈل سے بھی لگ سکتا ہے اور وہی برتن استعمال کرنے یا پکڑنے سے بھی جو مریض استعمال کر رہا ہے۔ اس سے احتیاط کی کنجی صرف یہ ہے کہ مریض کے بہت قریب نہ جائیں لیکن ایسا نہیں کہ اسے بالکل چھوڑ ہی دیں۔ بس احتیاط کریں۔’

اگرچہ یہ دونوں وائرس ہوا میں قطروں اور چھونے سے لگتے ہیں لیکن ابھی تک سامنے آنے والی تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کورونا وائرس ایک شخص سے دوسرے کو اس وقت بھی لگ سکتا ہے جبکہ وہ وہاں موجود نہ ہو۔

یعنی کہ متاثرہ شخص کے جراثیم ہوا میں موجود قطروں میں زندہ رہتے ہیں اور جب وہ وہاں سے چلا بھی جاتا ہے تو وہ وہاں موجود یا آنے والے کسی دوسرے شخص کو لگ سکتے ہیں۔

Leave a Comment